Sunday, December 28, 2025

1st - درس علمِ مکتب از روئے قرآن

0 Comments

 علمِ مکتب


    اسلام میں مکتبہ سازی — قرآنی اور حدیثی دلائل کے ساتھ ایک تحقیقی جائزہ

1. قرآنِ کریم کی روشنی میں مکتبہ سازی کی بنیاد

1.1 پہلی وحی: علم کا آغاز

اسلام میں علم کا پہلا حکم وحی کی پہلی آیت سے ملتا ہے:

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ(العلق 1)

"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔"

یہ آیت انسانی فکر، تحریر، تعلیم اور کتابت کی بنیاد ہے — اور یہی لائبریری کلچر کا نقطۂ آغاز ہے۔


1.2 قلم اور تحریر کی قسم

قرآن میں قلم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

نۤ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُونَ(القلم 1)

"قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔"


یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ لکھنے، محفوظ کرنے اور تحریر کو باقی رکھنے کا عمل اللہ کے نزدیک عظیم ہے۔

لائبریری اسی عمل کی محفوظ شکل ہے۔


1.3 علم کے حاملین کا مرتبہ

قرآن کہتا ہے:

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ(الزمر 9)

علم والوں کو فضیلت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں علمی ذخائر، کتابیں اور مکتبے انتہائی اہم ہیں۔


1.4 تحریری محفوظات کا ذکر

قرآن بار بار کتاب، صحیفہ، القلم اور علم کا ذکر کرتا ہے۔

مثلاً:وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا(الفرقان 32)

یعنی قرآن تحریر و تلاوت کی ترتیب کے ساتھ ہے۔

 یہ خود ایک محفوظ "کتاب" کی طرف اشارہ ہے۔







0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔